مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے آج پیر کے روز اپنے بیان میں کہا کہ خطے کے ممالک کو امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل یہ سہ فریقی اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کے دروازے تمام برادر اقوام کے لیے کھلے ہیں۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے حکام کے ساتھ وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف اسٹاف کی سطح پر متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ ہمارے اتحاد کا سرکاری نام ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ ہے۔ ہمارا مقصد ایسا مضبوط اور مؤثر اتحاد تشکیل دینا ہے جو مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتا ہو، اور ہم اس اتحاد کی توسیع کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
ہاکان فیدان نے کہا کہ ہمارا وژن امن پر مبنی ہے اور ہم نے ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کا کام شروع کر دیا ہے۔ ہمارا اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے، بین الاقوامی قوانین پر مبنی ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ اس مقصد سے تشکیل دیا گیا ہے کہ مزید ممالک اس میں شامل ہوں اور اس کا دائرہ وسیع ہو۔ ہم ایک مضبوط اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں اور خطے میں سلامتی و تعاون کے ایک نئے ڈھانچے کی تشکیل کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
فیدان نے نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو عالمی برادری کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور اسے روکا جانا چاہیے۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نسل کشی کے ارتکاب کے بعد سلامتی اور انسانیت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ نیتن یاہو کو روکنا ضروری ہے، کیونکہ وہ صرف خطے کے لیے ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا کے عوام کے لیے نقصان اور خطرے کا باعث بن رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ